بہار کی 21 جیلوں میں 88.89 کروڑ روپے کی لاگت سے 44 رہائشی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی
Awaz E Bihar••6 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 24 مارچ (اے بی این)۔ حکومت بہارنے جیل کے اہلکاروں کے لیے رہائش کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک اہم اسکیم کو منظوری دی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ریاست بھر کی 21 جیلوں میں کل 44 بی قسم (جی3+) رہائشی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر عمارت کی لاگت 202.04 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جس میں کل پروجیکٹ کی لاگت کا تخمینہ 88 کروڑ 89 لاکھ 76 ہزار روپے ہے۔ اس اسکیم کو مالی سال 2025-26 اور اس کے بعد کے سالوں میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ یہ اسکیم بہار جیل مینول 2012 کے قواعد کے تحت لاگو کی جارہی ہے۔ اس کے مطابق جیل کے احاطے میں چیف وارڈر اور چیف وارڈر کے عہدے سے اوپر کے افسران کو کرایہ کے بغیر رہائش فراہم کرنا لازمی ہے۔اس کے علاوہ 10 فیصد وارڈر کے لیے فیملی ہاو?سنگ اور بقیہ کے لیے سنگل ہاو?سنگ فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں اس وقت 5,034 وارڈر پوسٹوں کو منظوری دی گئی ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رہائشی انفراسٹرکچر کو بڑھایا جا رہا ہے۔سمراٹ چودھری نے بتایا کہ 21 جیلوں میں کل 44 عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، جن میں مظفر پور میں دو، پورنیہ میں تین، موتیہاری میں چار، ا?را میں دو، بھبھوا میں دو، بیتیا میں ایک، سیوان میں دو، دربھنگہ میں دو، مدھوبنی میں دو، سیتامڑھی میں دو، سپول میں دو، کٹیہار میں دو، کشن گنج میں دو،سہرسہ میں دو،بیگوسرائے میں دو،جموئی میں دو، لکھی سرائے میں دو،مونگیر میں دو، شیخ پورہ میں دو، اورنگ ا?باد میں دواور نوادہ میں دو سمیت 21جیلوں میں کل 44عمارتوں کی تعمیر کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست میں لا اینڈ ا?رڈر کو مزید موثر اور جدید بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں مشرقی چمپارن، ارریہ، سارن، بیگوسرائے اور کشن گنج میں تھانوں کی عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے 46.34 کروڑ روپے کی اسکیم کو منظوری دی گئی ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اسکیم کی تکمیل پر جیل کے عملے کو بہتر رہائش کی سہولیات میسر ا?ئیں گی، کام کرنے کا سازگار ماحول ملے گا اور جیل انتظامیہ کی کارکردگی میں بھی بہتری کی امید ہے۔