بہار اسمبلی میں ریاست کے دیہی علاقوں میں نئے ٹیکس لگانے کی تجویز کے خلاف اپوزیشن نے زبردست ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن ارکان مجوزہ ٹیکسوں کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے صبح کے سیشن کے دوران ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں سے عام لوگوں، بالخصوص متوسط طبقے اور غریب طبقے کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر واپس لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی بات کا نوٹس لیا ہے، لیکن اپوزیشن ارکان ویل میں ڈٹے رہے اور شور شرابا جاری رکھا۔ ہنگامے کے دوران اسپیکر نے وقفہ صفر کی کارروائی شروع کرائی۔ کچھ دیر تک نعرے بازی کرنے کے بعد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر واپس لوٹ گئے۔ س دوران پارلیمانی امور کے وزیر وجے چودھری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی منظوری کے بغیر کوئی بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کسی نئے ٹیکس کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکومت کوئی نیا ٹیکس لاگو کرنا چاہتی ہے تو اسے ایوان میں بل لانا ہوگا۔ اس کے بعد تمام ارکان اس پر بحث کریں گے، اپنی رائے دیں گے اور ضروری ترامیم بھی تجویز کر سکیں گے۔مسٹر چودھری نے ایوان کو یقین دلایا کہ ایسی کسی بھی تجویز پر ایوان میں تفصیلی بحث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غوروخوض اور ترامیم پر غور کے بعد ہی کوئی بل پاس کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایوان کے ارکان تجویز کی حمایت نہیں کرتے ہیں تو ایوان اسے مسترد بھی کر سکتا ہے۔