بہار میں ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں میں اردو، فلسفہ، سنسکرت اساتذہ کی تقرری کے لیے جدوجہد جاری
Awaz E Bihar••9 ویوز•4 منٹ پڑھیں
(پٹنہ) بہار حکومت کے ذریعہ کھولے گئے ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں میں اردو، فلسفہ، میتھلی اور سنسکرت کی سیٹیں شامل نہ کیے جانے کے سنگین معاملے کے سلسلے سے مختلف یونی ورسٹیوں کے ری سرچ اسکالرز کا ایک وفد مسلسل جدوجہد میں لگا ہوا ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ری سرچ اسکالروں کے وفد نے آج بہار کے نائب وزیرِ اعلا اور سابق وزیرِ تعلیم، جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سینیر لیڈر جناب وجے کمار چودھری سے ملاقات کی اور اُنھیں اس بات کی اطلاع دی کہ اردو، فلسفہ سنسکرت اور میتھلی زبانوں کے طلبہ کے لیے ان ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں میں اسامیاں نہیں نکالی گئیں جو بڑی تشویش ناک بات ہے اور ان نئے کالجوں کے قرب و جوار میں رہنے والے طلبہ پر ظلم و تشدد کے مترادف ہے۔ انھوں نے نائب وزیر اعلا سے گزارش کی کہ مذکورہ اہم مضامین کی پوسٹ کو ان نئے ڈگری کالجوں میں شامل کرکے جلد از جلد اس کے لیے پوسٹ نکال کر ان مضامین کی تعلیم بھی یہاں شروع کی جائے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ری سرچ اسکالروں کے وفد نے محکمۂ اعلا تعلیم کے ایجوکیشن سکریٹری جناب راجیو روشن اور اسپیشل سکریٹری جناب پَوَن کُمار سنہا سے بھی ملاقات کی تھی اور انھیں بھی زمینی حالات سے آگاہ کراتے ہوئے نئے ڈگری کالجوں میں اردو، فلسفہ اور دیگر اہم مضامین کے پوسٹ شامل کرکے ان میں اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ری سرچ اسکالروں کے اس وفد میں شعبۂ اردو،جے پرکاش یونی ورسٹی، چھپرا کے ری سرچ اسکالر محمد مرجان علی، اے این کالج، پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ محمد آصف علی، پٹنہ یونی ورسٹی کی ری سرچ اسکالر فرحت صغیر، ویر کنور سنگھ یونی ورسٹی، آرا کی ری سرچ اسکالر ناہید پروین اور پٹنہ یونی ورسٹی کے ری سرچ اسکالر محمد عامر شامل ہیں۔ ری سرچ اسکالروں کے وفد نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ان کی اس مہم کا اگلا اور سب سے اہم مرحلہ بہار گورنر اور بہار کی تمام یونی ورسٹیوں کے چانسلر عزت مآب سید عطا حسنین سے ملاقات کرنا ہے تاکہ ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں میں اردو، فلسفہ، میتھلی اور سنسکرت کی سیٹوں کی شمولیت کے مسئلے کو ان کے سامنے موثر اور مضبوط انداز میں رکھا جا سکے۔ وفد نے کہا کہ عزت مآب سید عطا حسنین ایک دانش ور ہیں اور یونی ورسٹیوں میں تعلیمی اصلاحات کے کے بارے میں ایک بہتر نظریہ رکھتے ہیں، ان سے اگر وفد کی ملاقات ہوئی تو وہ ضرور اس بات کو سمجھیں گے کہ بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو اور فلسفہ، سنسکرت اور میتھلی مضامین کے طلبہ اور ان کے گارجین حکومت کے اس سوتیلے رویے سے ناخوش اور مایوس ہیں کہ ان مضامین کی پوسٹ کو ان ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے سے لوک بھون میں عزت مآب سے ملاقات کے لیے درخواست بھی پیش کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ وفد کی جانب سے ای میل کے ذریعہ بھی گورنر صاحب سے ملاقات کی درخواست ارسال کی گئی ہے۔ وفد کو امید ہے کہ جلد ہی ملاقات کا وقت ملے گا۔ وفد کے ارکان نے بتایا بہار کے وزیرِ اعلا جناب سمراٹ چودھری صاحب سے ملاقات کے لیے بھی کوشش جاری ہے۔ اسی سلسلے میں وفد نے محکمۂ اعلا تعلیم کے وزیرِ تعلیم جناب سنجے کمار ٹائیگر سے ملاقات کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وفد نے بتایا کہ دفتر، رہائش یا پارٹی دفتر جہاں بھی ممکن ہوا، منگل یا بدھ تک وفد کی وزیرِ تعلیم سے ملاقات کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ بہار بھر کے اردو طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور مختلف مضامین سے وابستہ طلبہ و محققین کی دعائیں اور محبتیں ان کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جدوجہد کسی ایک فرد کی نہیں بل کہ طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ہوا اجتماعی مسئلہ ہے۔ وفد نے بہار کی تمام یونی ورسٹیوں سے منسلک اساتذہ طلبہ اور ری سرچ اسکالرس سے اس مقصد کے لیے دعا کرنے اور اس سلسلے سے قلمی اور عملی تعاون کی درخواست کی ہے اور امید جتائی ہے کہ اجتماعی طور پر جدوجہد سے ان شاء اللہ کامیابی ضرور حاصل ہوگی۔