طلبہ کا مستقبل اب بہار میںروشن، تکنیکی تعلیم کے لیے باہر جانا کم ہوگیا: نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری
Awaz E Bihar••36 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 29 اپریل (نمائندہ):کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی وجے کمار چودھری نے کہا ہے کہ بہار میں تکنیکی تعلیم کے فروغ کے باعث طلبہ کا دوسرے ریاستوں میں جانا نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے اور اب ریاست کے اندر ہی معیاری تعلیم دستیاب ہے۔پٹنہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کی پالیسیوں کے نتیجے میں تعلیم سمیت ہر شعبے میں ترقی ہوئی ہے اور نئے وزیر اعلیٰ ان پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہلے طلبہ کو انجینئرنگ اور تکنیکی تعلیم کے لیے ریاست سے باہر جانا پڑتا تھا، جس سے مالی بوجھ بھی بڑھتا تھا، لیکن اب بہار میں ہی انجینئرنگ اور پولی ٹیکنک اداروں کی تعداد بڑھنے سے طلبہ کو گھر کے قریب کم خرچ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ کے مطابق ریاست کے 38 اضلاع میں انجینئرنگ کالج اور 46 پولی ٹیکنک ادارے قائم کیے جا چکے ہیں، جس سے ہزاروں طلبہ ہر سال تعلیم حاصل کر کے روزگار کے قابل بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “سات نشچئے” پروگرام کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں اور طلبہ اچھی نوکریاں حاصل کر رہے ہیں۔وجے کمار چودھری نے کہا کہ آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ روزمرہ زندگی کے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل بڑھ چکا ہے، جس سے کام آسان اور تیز ہو گیا ہے۔ اسی لیے ریاست میں تکنیکی تعلیم کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف کالجوں میں سینٹر آف ایکسیلینس قائم کیے گئے ہیں، جہاں تعلیم کا معیار بہتر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ کورسز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن دے کر انہیں بھی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس سے خواتین کی خودمختاری کو فروغ ملا ہے۔اس موقع پر محکمہ کے سکریٹری لوکیش کمار سنگھ نے بتایا کہ تعلیمی سال 2025-26 کے لیے سرکاری انجینئرنگ کالجوں میں 14,553 نشستیں اور پولی ٹیکنک اداروں میں 17,243 نشستیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی فیس نہایت کم رکھی گئی ہے تاکہ غریب طلبہ بھی بآسانی تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریاست میں روزگار کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں اور سال 2025-26 میں اب تک تقریباً 15,246 طلبہ کو مختلف نجی کمپنیوں میں ملازمت مل چکی ہے۔ تقریب کے دوران، خواتین کو بااختیار بنانے پر خصوصی زور دیتے ہوئے، وجے چودھری نے نوٹ کیا کہ بہار کے انجینئرنگ کالجوں میں ایک تہائی سیٹیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں وزیر اعظم نے ریمارک کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کی جائے تو بہار بے مثال ہے۔ ان حکومتی پالیسیوں کی بدولت تکنیکی شعبوں میں نوجوان خواتین کی شرکت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو ریاست کی ترقی کی جانب ایک یادگار قدم ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بہار میں تکنیکی تعلیم معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے، فیس کا ڈھانچہ انتہائی سستی بنایا گیا ہے۔ سکریٹری لوکیش کمار نے بتایا کہ بہار کے سرکاری انجینئرنگ کالج صرف 10 روپے ماہانہ ٹیوشن فیس لیتے ہیں۔ مزید برآں، داخلہ فیس بھی برائے نام ₹10 مقرر کی گئی ہے جو کہ ملک بھر میں کسی بھی دوسری ریاست میں بے مثال ہے۔ ان کم سے کم فیسوں کی مدد سے، پولی ٹیکنک کالج اور انجینئرنگ ادارے فی الحال بہار کے ہر ضلع میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ ریاست کے اندر سیکٹر کی توسیع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے محکمہ کے سکریٹری نے اعلان کیا کہ بگہا میں ایک نیا پولی ٹیکنک کالج جلد ہی کھلنے والا ہے۔ اس کا مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کے لیے ان کے اپنے علاقوں میں تکنیکی تعلیم کو قابل رسائی بنانا ہے۔ حکومت کی ترجیح ہر ضلع میں انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کرنا ہے، اس طرح بہار کے طلباء عالمی منڈی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اچھی طرح سے تیار ہو سکتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ تکنیکی تعلیم میں ان اصلاحات نے بہار کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ پریس کانفرنس میں محکمہ کے ڈائریکٹر احمد محمود، ریاستی تکنیکی تعلیمی کونسل کے سکریٹری چندرشیکھر سنگھ اور بہار انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سریش کانت ورما سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔