چھڑخانی کے ویڈیو وائرل ہونے کے پیچھے سازش بھی ہوسکتی ہے: دلیپ جیسوال
Awaz E Bihar••44 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 24 ستمبر: بہار میں لڑکیوں سے سڑک پر چھیڑخانی اور اس کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے واقعات پر وزیر اور بی جے پی لیڈر دلیپ جیسوال نے کہا ہے کہ ان معاملات میں سازش کے پہلو سے بھی تفتیش ہونی چاہیے۔ انہوں نے جموی اور سمستی پور کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے چھیڑخانی کرتا ہے تو وہ خود اس کا ویڈیو بناکر وائرل کیوں کرے گا؟ ویڈیو وائرل ہونے سے ملزم کی شناخت ہوسکتی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کا راستہ کھلتا ہے۔
جیسوال نے کہا کہ دونوں واقعات میں چھیڑخانی کے ویڈیو سامنے آئے ہیں، اس لیے پولیس کو واقعے کی تفتیش کے ساتھ یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ ویڈیو کس نے بنایا اور اسے وائرل کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایسے ویڈیو وائرل کیے جاسکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ چھیڑخانی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔
انل یادو پر فائرنگ کے معاملے پر جیسوال نے کہا کہ جرائم کے واقعات کے پس منظر مختلف ہوسکتے ہیں۔ کچھ واقعات قانون و انتظام سے متعلق ہوتے ہیں جبکہ بعض باہمی تنازع کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے سابق کونسلر انل یادو پر فائرنگ کے واقعے کو باہمی تنازع سے متعلق قرار دیا اور کہا کہ پولیس کارروائی کر رہی ہے، کسی قصوروار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
اپوزیشن کے ذریعہ ریاست میں جرائم کے بڑھتے واقعات پر حکومت اور ’’سوشاسن‘‘ کو نشانہ بنائے جانے پر جیسوال نے کہا کہ اپوزیشن صرف بیان بازی کرکے سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن واقعات میں مقدمات درج ہوئے ہیں، ان میں پولیس نے کارروائی بھی کی ہے