جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
اردو، عربی و فارسی اساتذہ کے ساتھ تبادلہ میں ناانصافی ناقابلِ قبول: تیجسوی یادو
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

اردو، عربی و فارسی اساتذہ کے ساتھ تبادلہ میں ناانصافی ناقابلِ قبول: تیجسوی یادو

Awaz E Bihar•11 اگست، 2026 کو 02:28 PM•24 ویوز•5 منٹ پڑھیں

وزیرِ اعلیٰ کو خط، تبادلۂ اساتذہ کے عمل پر فوری نظرِ ثانی اور ملحقہ مدارس کے اساتذہ کی زیرِ التوا تنخواہوں کی ادائے گی کا مطالبہ تیجسوی یادو کا سرکاری اسکولوں میں اردو اور سنسکرت مضامین کے اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ



پٹنہ:راشٹریہ جنتادل کے کارگزار قومی صدر و بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے ریاست میں جاری غیر منصفانہ اساتذہ کے تبادلے کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بہار کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں بالخصوص اردو، عربی اور فارسی کے اساتذہ کے ساتھ مبینہ امتیازی اور قواعد کے برخلاف کیے جانے والے سلوک پر سخت اعتراض درج کراتے ہوئے تبادلے کے پورے عمل کا ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تیجسوی یادو نے کہا ہے کہ بہار میں اساتذہ کے تبادلے کے موجودہ عمل کو لے کر مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ بالخصوص اردو، عربی اور فارسی کے اساتذہ کے ساتھ مبینہ طور پر امتیازی اور ضابطے کے خلاف برتاؤ سے اساتذہ میں شدید بے اطمینانی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے شفاف اور منصفانہ کارروائی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے اپنے خط میں اس امر کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے کہ متعدد اسکولوں میں اردو، عربی اور فارسی کے واحد استاد کو بھی ’سرپلس‘ قرار دے کر تبادلے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اسکول میں کسی مخصوص مضمون کا صرف ایک ہی استاد موجود ہے تو اسے بھی سرپلس قرار دے کر منتقل کرنا متعلقہ اسکول میں اس مضمون کی تدریس کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مناسب تعداد میں طلبہ موجود ہونے کے باوجود اردو، عربی اور فارسی کے منظور شدہ عہدوں کو ختم یا سرپلس کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ سال سے کم مدت سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ، کنٹریکٹ پر بحال اساتذہ اور حال ہی میں تبادلہ حاصل کرنے والے اساتذہ کے نام بھی تبادلے کی فہرست میں شامل کیے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ صورتِ حال محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ پورے تبادلے کے عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔تیجسوی یادو نے اپنے خط میں اردو اور سنسکرت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنسکرت کے ساتھ اردو بھی ہندوستان کی مٹی میں پروان چڑھنے والی ہماری مشترکہ تہذیبی اور ثقافتی میراث کی زبان ہے۔ دونوں زبانوں کے ساتھ مساوات اور احترام کا برتاؤ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو اور سنسکرت دونوں مضامین کو یکساں تعلیمی اہمیت دیتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں ان مضامین کے اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔خط میں امدادی مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ و غیر تدریسی عملے کی کئی ماہ سے زیرِ التوا تنخواہوں کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ ان اداروں کے اساتذہ اور ملازمین کی تقریباً پانچ سے چھ ماہ کی تنخواہیں بقایا ہیں، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ کی تعلیم، علاج، روزمرہ اخراجات اور دیگر بنیادی ضروریات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ برسوں سے اپنی خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور ملازمین کو کئی ماہ تک تنخواہ سے محروم رکھنا نہ صرف انسانی نقطۂ نظر سے نامناسب ہے بلکہ ایک حساس حکومت سے بھی اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔تیجسوی یادو نے وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ اردو، عربی اور فارسی کے اساتذہ کی موجودہ سرپلس اور تبادلے کی فہرست کا آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف جائزہ لیا جائے اور قواعد کے خلاف پائے جانے والے تمام تبادلوں کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسکول میں کسی مضمون کے واحد استاد کو سرپلس قرار دینے کا عمل فوری طور پر روکا جائے اور اردو، عربی و فارسی کے منظور شدہ عہدوں کو ختم نہ کیا جائے۔ پانچ سال سے کم مدت سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ، کنٹریکٹ اساتذہ اور حال ہی میں تبادلہ حاصل کرنے والے اساتذہ کے معاملات کا بھی قواعد کے مطابق دوبارہ جائزہ لینے کی مانگ کی گئی ہے۔خط میں ہر سرکاری اسکول میں اردو اور سنسکرت کے اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے واضح پالیسی وضع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ امدادی مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ و غیر تدریسی عملے کی مکمل بقایا تنخواہیں فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تیجسوی یادو نے تعلیم محکمہ کے متعلقہ افسران کی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تبادلے کے پورے عمل میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی جانچ کی جائے اور جو افسران قصوروار پائے جائیں، ان کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔خط میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ اساتذہ کے ساتھ ناانصافی، طلبہ کے تعلیمی حقوق کو نظرانداز کرنا اور کئی ماہ تک تنخواہیں روک کر رکھنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں متعلقہ محکمہ کو واضح اور مقررہ مدت کے اندر کارروائی کرنے کی ہدایت دی جائے، کسی بھی زبان، مضمون یا استاد کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو اور بہار کا تعلیمی نظام سیاسی یا انتظامی غفلت کا شکار نہ بنے۔

شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026