اردو میں وہ کشش ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے: وجے کمار چودھری
Awaz E Bihar••47 ویوز•6 منٹ پڑھیں
پٹنہ(اے بی این) تاریخی شری کرشن میموریل ہال پٹنہ کے وسیع و عریض ہال میں آج دو روزہ جشن اردو کا شاندار افتتاحی سیشن منعقد ہوا۔ تقریب میں بہار کے نائب وزیر اعلی وجے کمار چودھری مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ پروگرام کے آغاز میں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری نے نائب وزیر اعلی وجے کمار چودھری کا گلدستہ دے کر استقبال کیا، بعدہ شال پوشی کرکے نائب وزیراعلی سمیت مہمانان کی عزت افزائی کی گئی۔محکمہ کابینہ سکریٹریٹ اردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ایس پرویز عالم نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ وہ زرخیز خطہ ہے جس نے بیدل عظیم آبادی، بسمل عظیم آبادی، شاد عظیم آبادی، علامہ جمیل مظہری اور کلیم عاجز جیسے جیالے پیدا کئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اردو کی پرشوق اور خوش گوار فضا کا سہرابلاشبہ حکومت بہار کے مخلصانہ اعتماد اور دور اندیش قیادت کو جاتا ہے۔ قبل میں حکومت بہار نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے کر ملک میں لسانی رواداری اور جمہوری قدروں کی شاندار مثال قائم کی۔ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو سے میرا واقعہ غزلوں سے ہوا۔ نورجہاں، غلام علی کو سنا، جب گراموفون پر یہ غزلیں سنا کرتے تھے، پھر کیسیٹ ریکارڈر کا وقت آیا، غلام علی کی کیسیٹ آئی، انہوں نے کہا کہ اردو کو بھی اگر آگے بڑھانا ہے تو جو اہم ٹول ہے اس کو اپنانا ہوگا۔ کیسے ہم موڈ آف کمیونیکیشن کو استعمال کریں اور اردو کو بڑھاوا دیں۔ آگے چل کر ہمیں آن لائن کورس ایسا ڈیزائن کرنا چاہیے جو آئی اے کی مدد سےہو۔ مہمان مقرر کامنا پرساد نے کہا کہ یہ اردو ربط باہم کی زبان ہے۔ فروغ اردو کے لئے بہار سرکار کی سرپرستی میں اردو ڈائریکٹوریٹ سرگرم عمل ہے۔ نائب وزیر اعلی کی اردو سے محبت قابل داد و تحسین ہے۔ بہار نے ہمیشہ ہی علم و ادب کی پیروی کی ہے، سرپرستی کی ہے۔ پٹنہ عالموں اور ادیبوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں صوفی سنتوں کی رحمت ہے۔ علم و ادب کے اس گہوارہ کو عظیم آباد کہا گیا۔انہوں نے کہا کہ ادب اپنے وقت کی عکاس ہوتی ہے۔ ہر دور میں ادب کی زبان بول چال کی زبان سے الگ رہی ہے۔ اردو کی نئی آبادی قائم ہو رہی ہے۔ یہ دلکش زبان اردو دور حاضر کی ترجمانی بخوبی کر رہی ہے۔ جو لوگ اردو کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی اردو ہی میں کرتے ہیں۔ ہنومان جی کے سامنے جب تک عرض لگائیں گے تب تک اردو رہے گی۔ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ اور اردو نہ صرف زبان بلکہ مکمل تہذیب ہے۔اس موقع پر چار مونوگراف اور بھاشنگم کے تازہ شمارہ کا افتتاح عمل میں آیا۔ دس اردو لرنر کو بھی سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ ڈاکٹر پنکج کمار، کندن کمار انڈر سکریٹری، منیش کمار وغیرہم کو اردو لرننگ سرٹیفیکٹ دیا گیا ۔پروفیسر ارتضی کریم نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ نائب وزیر اعلی کے مسکان سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ وہ اس جلسہ میں شریک ہو رہے ہیں۔ یہ جشن اردو یا جشن بہار اردو جو بھی کہہ لیں، لیکن آج ہم لوگ اس کودیوالی عید کی طرح منانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار سرکار کے ہم لوگ احسان مند ہیں کہ اس نے اردو کا جشن برپا کیا اور سمراٹ چودھری کے بھی شکرگزار ہیں، نتیش کمار کے جلائے ہوئے شمع کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ جتنی ذہانت بہار کی سرزمین میں ہے اس کا بدل نہیں ہے۔ بغیر سرکار کی معاونت کے، بغیر سرکار کے مددکے اتنا بڑا اردو کا جلسہ نہیں ہو سکتا ہے۔ ابھے کمار بیباک نے کہا کہ گھر میں بچوں سے اردو میں بات کریں، اردو کے اخبار، رسائل اور جرائد خریدیں۔عامر سبحانی نے کہا کہ چند سالوں کے وقفہ کے بعد جشن اردو کا انعقاد تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔وزیر اقلیتی فلاح زمان خان نے کہا کہ آج جو ادب کی محفل جمی ہے، یہ بہار سرکار کوشش سے ہے۔ بہار کے نائب وزیر اعلی وجے کمار چودھری نے کہا کہ ساتھیوں، یہ جشن اردو ہے۔ جشن اردو کی شروعات ہمارے لیڈر اور سابق وزیر اعلی نتیش کمار کے وقت میں ہوئی تھی۔ میں، نتیش کمار، سمراٹ چودھری اور سرکار کیجانب سے جشن اردو کے انعقاد پر نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ نتیش کمار جیسے لیڈر بڑی مشکل سے ملتے ہیں۔ خاص طور پر اردو کی بات ہو یا اقلیت جماعت کی بات ہو، نتیش کمار نے ان کے لئے جو کیا ہے وہ پورے ملک کے لئے مثال ہے۔ ہم لوگ اتنا ہی اردو جانتے ہیں کہ جہاں کوئی اردو نہیں جاننے والا ہو تو ایک آدھ جملے کہہ کے نکل جاتا ہوں۔ بس بات اتنی ہے کہ میں اردو سے محبت کرتا ہوں۔ اس لئے کہ اردو محبت کی زبان ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو میں وہ کشش ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہ بھاشا اتنی لذیذ ہے کہ اردو بولنے سے نہ صرف سننے والوں کو اچھا لگتا ہے بلکہ بولنے والے کی زبان اور منہ میٹھی ہو جاتی ہے۔ یہ شاندار پروگرام ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری اروند کمار چودھری اور ڈائریکٹر پرویز عالم کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔نائب وزیر اعلی نے کہا کہ آزادی کی لڑائی میں جتنے مقبول نعرے ہوئے وہ سب اردو زبان میں ہیں، جیسے انقلاب زندہ باد۔ اردو ایسی زبان ہے کہ اگر اس کو آپ نے غور سے سنا اور سمجھا تو آپ کے دل کی گہرائی میں اتر مجائے گا جو نکالے نہیں بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں اردو کے فروغ یا اقلیت کے فلاح و بہبود کے لئے بہار سرکار کوئی کور کسر چھوڑنے والی نہیں ہے، آپ مطمئن رہیں۔ سرکار آپ کے ساتھ ہے۔ آپ کی نظر عنایت سرکار کی طرف رہے اور سرکار کی تو جہ آپ کی طرف رہے گا۔ آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔شکریہ کی تجویز پیش کرنے سے قبل مہمان کی حیثیت سے تشریف لائے مشہور تنقید نگار ارتضیٰ کریم نے مائک تھام لی اور نائب وزیر اعلیٰ کی موجود گی میں کہا کہ آپ سے درخواست کرتاہوں کہ آب بہار اردو اکادمی کو زندہ کردیں انہوں نے اس کی تائید سامعین سے کرائی اور سامعین نے پوری طاقت کے ساتھ ان کی حمایت کی لیکن اس درخواست نے اردو ڈائریکٹوریٹ کے تمام عملہ اور نائب وزیر اعلیٰ کے سامنے پریشانی کھڑی کردی کسی حالات کو سنبھالاگیا جس کے بعدڈائریکٹر ایس ایم پرویز عالم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاکہ آج کے اس تاریخی اور یادگار دو روزہ جشن اردو کے افتتاحی سیشن میں مہمان خصوصی وجے کمار چودھری جی کا اردو کے تئیں بے پناہ محبت کے لئے بہار کی اردو آبادی کی طرف سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ جس خلوص اور محبت کے ساتھ آپ نے وقت دیا وہ بیش قیمتی ے۔ ارشاد علی آزادچیرمین شیعہ وقف بورڈ، سلیم پرویز چیئرمین مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، ڈاکٹر خالد انورایم ایل سی، آفاق احمد خاں ایم ایل سی، نوشاد عالم وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا اور اردو کی ترویج واشاعت کے لئے نیک خواہشات پیش کیں ۔اس موقع پر شری کرشن میموریل ہال اردو دوست حضرات و خواتین سے بھرا ہوا تھا تقریب کی نظامت ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے کی۔