امن اور انصاف کے لئے ہم لڑیں گے :اخترالا یمان /اشفاق رحمن
Awaz E Bihar••7 ویوز•2 منٹ پڑھیں
سابق ڈی آئ جی محمد عبداللہ صدر ،مسیح الدین جنرل سیکرٹری اور رانا رنجیت ترجمان نامزد
پٹنہ(پریس ریلیز) ماب لنچنگ اور ذات -پات و مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف مضبوط قانونی جدوجہد کے لیے بنی تنظیم “فورم فار پیس اینڈ جسٹس” کے دفتر کا جمعرات کو پھلواری شریف کے فیڈرل میرج ہال میں افتتاح ہوا۔تنظیم کےمحرک ایم ایل اے اخترالایمان ،روح رواں مشہور و معروف شخصیت اشفاق رحمن ،سابق اسپیکر اودے نارائن چودھری ،سابق ڈی آئ جی محمد عبداللہ و دیگر نے فیتہ کاٹ کر باضابطہ دفتر کا افتتاح کیا۔ اخترالا یمان نے کہا کہ ملکی حالات ناگزیر ہیں ،نفرتیں سنگین صورت حال اختیار کرتی جا رہی ہیں ۔ایسے میں ہم چپ نہیں بیٹھ سکتے ہیں ۔ہمیں انصاف اور امن کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔اشفاق رحمن نے مختصر خطاب میں کہا کہ یہ تنظیم زمین پر کام کرے گی۔ہم پورے بہار میں اکائ تشکیل دیں گے۔امن دوست لوگوں کو اس سے جوڑیں گے۔آج امن کی سخت ضرورت ہے۔ایسے میں ہم خاموش تماشائ بنے نہیں رہ سکتے۔یہ تنظیم انسان اور انسانیت کے لئے لڑے گی اور اس کی جڑیں مضبوط کرے گی۔امن اور انصاف سے سماج آگے بڑھتا ہے ،ملک ترقی کرتا ہے۔ماب لنچنگ،ظلم ،تشدد کسی بھی ملک کے لئے بدنما داغ ہے۔ہمارا بھارت آج نفرتوں میں گھیر کر کراہ رہا ہے۔افتتاحی تقریب کے موقع پر دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور قانونی ماہرین کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں اس فیصلے کو اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا کہ یہ فورم مذہبی اور ذات پات کی بنیاد پر بے گناہ افراد کے خلاف ہونے والی ماب لنچنگ جیسے معاملات میں ضلع عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک قانونی لڑائی لڑے گا اور متاثرین کو انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اجلاس میں سابق ڈی آئی جی محمد عبداللہ کو فورم کا صدر اور معروف سماجی کارکن سید مسیح الدین کو جنرل سکریٹری اور رانا رنجیت سنگھ کو ترجمان منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر سابق رکنِ اسمبلی نہال الدین اور ڈاکٹر اظہار احمد سمیت ، ڈاکٹر ساجد علی خان، مولانا امانت حسین، سراج انور (صحافی)، عاظمی باری، اسلم جاویداں، اویس امبر، ایم کیو جوہر، مرشد عالم، ڈاکٹر نسرین بانو، شگفتہ راشد (ایڈووکیٹ) اور شمع اختر (ایڈووکیٹ) سمیت متعدد معزز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تمام مقررین نے اس فورم کو موجودہ دور کی ایک اہم اور ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔