بہار کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر وزیراعلیٰ کی نظر، کام میں تیزی کا حکم
Awaz E Bihar••7 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 22 ستمبر: وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ریاست میں 100 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں تیزی لانے اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی، محکموں کے درمیان بہتر تال میل اور تعمیراتی کاموں کے معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔وزیر اعلیٰ نے آج لوک سیوک آواس واقع ’سنکلپ‘ سبھا گار میں ’بہار گتی‘ کے تحت نشان زد بڑے منصوبوں کے ساتھ مرکزی اسپانسرڈ اور ریاستی اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں سڑک تعمیرات، آبی وسائل، صنعت اور سماجی فلاح سے متعلق اہم منصوبوں کی تفصیلی صورتحال پیش کی گئی۔ سلطان گنج-تاراپور-سنگرام پور-بیلہَر-کٹوریا-چندن-دردمارا سڑک کے جائزے کے دوران وزیر اعلیٰ نے سلطان گنج سے 40 کلومیٹر تک کے حصے کو فور لین میں تبدیل کرنے کے لیے تفصیلی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بیلہَر سے دردمارا تک بھی فور لین سڑک کی تعمیر یقینی بنانے کو کہا۔ وزیر اعلیٰ نے مستقبل کی ٹریفک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ تیار کرکے کارروائی میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔اورنگ آباد، ساسارام اور ڈہری میں پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ منصوبے کے تحت سون ندی کے سطحی پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کام کے معیار اور پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔مادھوبنی ضلع کے جئے نگر میں کملا ندی پر بیراج کی تعمیر کے سلسلے میں بھی وزیر اعلیٰ نے کام میں تیزی لانے اور تمام ضروری کارروائیاں وقت پر مکمل کرنے کو کہا، تاکہ آبپاشی کے منصوبوں کا فائدہ کسانوں کو بروقت مل سکے۔ صنعتی منصوبوں کے جائزے کے دوران وزیر اعلیٰ نے امرتسر-کولکاتا انڈسٹریل کوریڈور کے تحت گیا میں قائم کیے جا رہے انٹیگریٹڈ مینوفیکچرنگ کلسٹر (IMC) کا اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں افتتاح کرنے کی ہدایت دی۔ حکومت کے مطابق اس کلسٹر کے شروع ہونے سے بہار میں تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔وزیر اعلیٰ نے صنعتی پروجیکٹ کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولیات کی تعمیر مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ میٹنگ میں جنوبی بہار کی نہروں اور ندیوں کے پشتوں کو شمسی توانائی سے مربوط کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ افسران کو امکانات کا مطالعہ کرکے ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے شمسی توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال پر زور دیا۔سماجی فلاح اور آئی سی ڈی ایس کی اسکیموں، جن میں سکشَم آنگن باڑی و پوشن 2.0، مشن شکتی-سامرتھ اور نوعمر لڑکیوں کے لیے غذا کی اسکیم شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایت دی کہ آنگن باڑی کارکنوں اور متعلقہ کارکنوں کے زیر التوا اعزازیہ کی ادائیگی درگا پوجا سے قبل ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں سے متعلق فلاحی و تغذیاتی اسکیموں کا فائدہ مستحقین تک بروقت پہنچنا چاہیے اور ان کے نفاذ کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’بہار گتی‘ کے تحت 100 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبے ریاست کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے لیے اہم ہیں۔ سڑک، پینے کے پانی، آبپاشی، صنعت، توانائی اور سماجی شعبے کے منصوبوں میں تاخیر کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ہر محکمے میں بڑے منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی ہو اور جہاں بھی رکاوٹ سامنے آئے، اسے نشان زد کرکے فوری حل کیا جائے۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری دیپک کمار، ڈیولپمنٹ کمشنر مہیر کمار سنگھ، ایڈیشنل چیف سکریٹری ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی آنند کشور، محکمہ تعمیرات سڑک کے سکریٹری پنکج کمار پال، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری لوکیش کمار سنگھ، صنعت کے سکریٹری کندن کمار، توانائی کے سکریٹری اجے یادو، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری سنجے کمار سنگھ، محصولات و اصلاح اراضی کے سکریٹری جے سنگھ، سماجی فلاح کے سکریٹری ونود سنگھ گونجیال، کھیل کے سکریٹری دیپک آنند، آبی وسائل کے سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ اور بی آئی اے ڈی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر نوین کمار سمیت متعدد اعلیٰ افسران موجود تھے۔