جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بزرگوں نےاپنی رواداری سےملک میںمشترکہ تہذیب کو پروان چڑھایا:پروفیسر عبدالواحد انصاری
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

بزرگوں نےاپنی رواداری سےملک میںمشترکہ تہذیب کو پروان چڑھایا:پروفیسر عبدالواحد انصاری

Awaz E Bihar•18 اگست، 2026 کو 02:36 PM•27 ویوز•6 منٹ پڑھیں

اردو شاعری نے رواداری کے فلسفے سے خود کوایک دن بھی الگ نہیں کیا:پروفیسر صفدر امام قادری، ارباب قلم کے زیراہتمام محفل شعر وادب کاانعقاد

پٹنہ( پریس ریلیز)ہمارے بزرگوں نے مشترکہ تہذیب کی پاسداری اور پاسبانی کی اور رواداری کا مظاہرہ کرکے مشترکہ تہذیب کوپروان چڑھایا۔ جس میںانسانیت، بھائی چارہ اورہم آہنگی تھی۔آزادی کے بعد ان قدروں کی اہمیت اور زیادہ بڑھی۔ ہم سیکولرزم کے راستے پر چلے۔فی الحقیقت سیکولرزم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک اس میں رواداری نہ ہو۔یہ باتیں معروف اسکالر پروفیسر عبدالواحد نے ارباب قلم کے زیر اہتمام یوم آزادی کے موقع پر منعقدایک ادبی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔اس خصوصی لیکچر کاموضوع تھا’’ اردو شاعری میں بین المذاہب رواداری کا فلسفہ ‘‘ ۔ پروفیسر عبدالواحد نے اس موضوع پر خطبہ دیتے ہوئے مزیدکہا کہ رواداری کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کے خیال سے اتفاق نہ کرتےہوئے بھی اسے برداشت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مذہب کواگر نہ اپنایا جائے تو شیرازہ بکھر جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیکولرزم کی کامیابی کایہی مطلب ہے کہ سکھ ہوں، ہندو ہوں،مسلم ہوں یا عیسائی سب اپنے اپنے مذہب پر عمل کریں لیکن جو ہماراآئین کہتاہے اس کوترجیح دیں۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے معروف اسکالر پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا کہ اردو کاتقریباً سات سو برس کا سرمایہ ہے اور اس سات سو برس میں ایک دن بھی ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اس رواداری کے فلسفے سے اپنے کوالگ کیاہے۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمارا پہلا شاعر جسے ہم امیر خسرو کےنام سے یاد رکھتے ہیںاس نے اتنے اسباق ہمارے سامنے پیش کردئے کہ اس ہندوستان کی مٹی سے کسی زبان کاکوئی ادیب شاعر فلسفی دوسرا نہیں اٹھ سکتا ،جو امیر خسرو کی طرح سے خیرسگالی کے جذبات رواداری کے جذبات اپنی شاعری کے ذریعہ لٹاتارہاہو۔ وہاں سے لے کرآج کے زمانے کے شعرا تک رواداری ہمارا موضوع ہے اورہرطرح کے سرد وگرم دیکھنے کے باوجود اردو نے ایک دن بھی ایسا نہیں گزارا کہ اس صفت کوچھوڑا ہو۔معروف صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو شاعر ی میں شروع سےلے کرآج تک رواداری ہی رواداری رہی ہے ۔ خاص طور پر قدیم شعرا نے اس پر بہت توجہ دی اوران میں صوفیائے کرام نے زیادہ توجہ دی۔ خانقاہوںمیں چونکہ اردو شاعری اور اردو پروان چڑھی اس لئے وہاں کی اردو شاعری میں بڑی رواداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا کہ صرف پھلواری شریف کے قدیم شاعروں میں سیکڑوں شعرا ایسے ہیں جنہوں نے اس پر بڑی توجہ دی ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ شاعری اس مقصد سے ہی کرر ہے تھے کہ یہ ملک ایک گلدستہ ہے اور اس گلدستے کو سجا کر رکھنا ہے۔انہوںنے ہندوستانی تہذیب کو مختلف رنگوں کا گلدستہ قراردیتے ہوئے کہا کہ اردو شاعروں کی یہ بڑی دین ہے کہ رواداری کی ڈور سے اس گلدستے کوباندھ رکھاہے۔
اس خصوصی پروگرام کی صدارت کرتےہوئے عربی کے اسکالر اور پٹنہ یونیورسٹی کے معروف استاد پروفیسر سرورعالم ندوی نےکہا کہ انسانی اقدار وروایات کی پاسدار یک جہتی ورواداری اور باہمی اعتماد ہندوستان کی تاریخ کا قابل رشک باب ہے۔ یہاں کی بردارانہ تعلقات اور روادارانہ باہمی زندگی میں اس ملک نے ایسا ماحول قائم کیا جس نے علم وفن کی مختلف جہتوں کومتاثر کیاہے۔ جس میں نظم ونثر مصوری اور موسیقی بطور خاص شامل ہے۔ اس کے پس پردہ وہ آفاقی وسعت فکری کارفرما نظر آتی ہے جسے ہم فطرت کاکاز قرا ر دیتےہیں۔ جس نے انفرادی اجتماعی معاشرتی سیاسی اور معاشی ہر نظام کومتاثر کیا۔ جو فطرت کی برتری کو تسلیم کرتےہوئےعد ل وانسانیت پر قائم ہے۔ انہوں نے اردوشاعری سے فرقہ وارانہ آہنگی اور رواداری کی کئی مثالیں بھی پیش کیں۔ اس پروگرام کی صدارت ارباب قلم کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرتوقیر عالم توقیر نے کی۔ یہ محفل حافط منزل عالم گنج میں منعقد کی گئی تھی۔بعد ازاں محفل سخن سجائی گئی جس کی صدارت معروف اور بزرگ شاعر معین کوثر نے اور نظام کے فرائض ڈاکٹر نعمان قیصر اور کاظم رضا نے مشترکہ طورپر انجام دئے۔ اس موقع پر پڑھے گئے کلام سے قارئین کی دلچسپی کے لئے منتخب اشعار پیش ہیں۔
دیکھ اے اہل وفا تجھ سے یہ کیا چاہتی ہے
بے سہاروں کی صدا دست دعا چاہتی ہے
حسن امام رضوی
جھلک دکھا کے وہ نگہ کی پیاس کو بڑھا گیا
کہ دل میں اضطراب کی اک آنچ سی لگا گیا
ثناء اللہ ـثنا دوگھروی
جتنے اصنام تراشے تھے خدا بن بیٹھے
دیکھا آزر کو تو بس ہاتھ ہی ملتے دیکھا
شمیم شعلہ
ایسے ایسے گل کھلائوگے بتائو کب تلک
آگ پانی میں لگائو گے بتائو کب تلک
قمر الزماں چمپارنی
ہمارے پرکھوںنے تاریخ کی رقم جس سے
اسی خیال اسی خواب کی ضرورت ہے
اعجاز رسول
اے کاش کہے کوئی مرے شہر میں عادل
اب خود سے ملاقات کی فرصت ہے میسر
اشفاق عادل
دل میں طوفان اٹھا حسرت ناکام کے بعد
قربتیں بڑھنے لگیں ہجر کے ایام کے بعد
نعمان قیصر
لذت عشق بتاں سے دل ہوا کافر مرا
اور کعبے جارہاہوں یہ مری تقدیردیکھ
صابررضا رہبر
اس طرح سے کیوں مجھ کوستاتے ہو مسلسل
خوابوں میں خیالوںمیں بھی ا ٓتے ہو مسلسل
وارث اسلام پوری
اجنبی بن کے رہا ایک شناسا مجھ میں
وہ پڑوسی تھا مگر گھر جو تاھا ونچا مجھ سے
پیکررضوی
صاحبو سر کی مرے قیمت لگی ایسی جگہ
جس جگہ اپنے سبھی تھے کوئی بیگانہ نہ تھا
معین کوثر
سیکڑوں عنوان دے کراک فسانہ بٹ گیا
اب تو پرکھوں کامکاں بھی خانہ خانہ بٹ گیا
پریم کرن
کبھی تو سامنے ساحل کے تم چلے آئو
بنے گی بات نہ خوابوںمیں آنے جانے سے
مطیع الرحمان ساحل
دعا کی نہ پوچھو کہ کتنی ہے قدرت
اٹھا ہاتھ دیکھو بدلتی ہے قسمت
باسط عظیم آبادی
اس کی مرضی ہوگی تو اک دن عیاں ہوجائیںگے
ہم کسی گونگے کےلب سے بھی بیاں ہوجائیںگے
احمد شاذقادری
دل گرفتہ کوئی ساعت ہی نہیں پڑتی ہے
چشم امروز میںحیرت ہی نہیں پڑتی ہے
شاہد اختر
اتر کی ہوائیں گنگا کو آسودہ خرامی دیتی ہیں
بے نام شہیدوں کی روحیں پرچم کو سلامی دیتی ہیں
کاظم رضا
بے جرم عقوبت میں بہا کس کا لہو ہے
تجھ کوتو پتاہے یہ خدا کس کا لہو ہے
توقیر عالم توقیرؔ
علاوہ ازیں پروفیسر عبدالواحد نے اس موقع پر’امریکائیل‘ کے عنوان سے ایک نظم پڑھی جس میں مشرق وسطیٰ کے عصر حاضر کے حالات کا نقشہ کھینچا گیاتھا۔

شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026