سابق وزیر اعلیٰ نتیش کماراس سے بہتر رخصتی کے حقدار تھے: راجیش رام
Awaz E Bihar••9 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 17 اپریل (اے بی این) بہار پردیش کانگریس کے صدر راجیش رام نے بہار میں نئی حکومت کے قیام پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں سے ریاستی سیاست کے مرکز رہے نتیش کمار اس سے بہتر رخصتی کے مستحق تھے۔ راجیش رام نے یواین آئی سے گفتگو میں کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے 2025 کا بہار انتخاب جس قیادت میں لڑا، اسی لیڈر کو صرف پانچ ماہ کے اندر عہدے سے ہٹا دینا ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی عزائم کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شنڈے جیسے کئی دیگر ریاستوں کی مثالیں موجود ہیں جہاں بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کی حیثیت کم کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ بی جے پی کے اتحادی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ کانگریس کے صدر نے مرکزی وزیر اور جے ڈی یو کے سینئر لیڈر للن سنگھ کی جانب سے کانگریس کو کمزور قرار دینے پر کہا کہ انہیں اپنی پارٹی کی فکر کرنی چاہیے، جسے ان کی اپنی اتحادی بی جے پی ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بہار میں کانگریس تنظیم گزشتہ چند برسوں سے ازسرِ نو تنظیم کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ راجیش رام نے کہا کہ کانگریس نے ریاست میں تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے ایک خصوصی "سرجن ساتھی جن سمپرک مہم" شروع کی ہے، جس کے ذریعے بڑی تعداد میں مخلص کارکنوں کی ٹیم تیار کی جائے گی۔ پارٹی کا ہدف ایسے پانچ لاکھ کارکنوں کی ٹیم بنانا ہے جو کانگریس کے نظریے کو عوام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی بہار میں کانگریس کی تنظیم ایک نئی شکل میں نظر آئے گی، جہاں عام کارکن بھی ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اعلیٰ قیادت سے براہِ راست رابطہ کر سکیں گے۔ راجیش رام نے پارٹی میں نظم و ضبط کی کمی اور حال ہی میں منعقدہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران تین اراکین اسمبلی کی غیر حاضری پر کہا کہ ان اراکین سے متعلق رپورٹ پارٹی ہائی کمان کو بھیج دی گئی ہے اور اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ نظم و ضبط کے حوالے سے کچھ خامیاں سامنے آئی ہیں، جن پر پارٹی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور جلد بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بہار میں گزشتہ انتخابات کے دوران کئی وجوہات کی بنا پر پارٹی کا ووٹ بینک نشستوں میں تبدیل نہیں ہو سکا، لیکن تنظیم کی مضبوطی کے ساتھ دونوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا نام تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور آج بھی ریاست میں بہت سے ایسے خاندان موجود ہیں جن کی کئی نسلیں اس پارٹی سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس ذہنی اور جذباتی وابستگی کو دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کرے گی اور لوگوں کو ایک بار پھر پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ راجیش رام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سیاسی میدان میں بہار میں کانگریس کے پاس اب کھونے کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے، لیکن حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔