آئندہ 5برسوں میں میں صنعتوں کے قیام پرپوری توجہ دی جائے گی
Awaz E Bihar••6 ویوز•14 منٹ پڑھیں
پٹنہ 24 مارچ :(اے بی این )وزیر اعلی نتیش کمار نے آج سمردھی یاترا کے دوران کیمور ضلع کے تحت چین پور بلاک کے اقلیتی رہائشی اسکول کے قریب منعقد جن سمواد پروگرام میں شرکت کی۔ جن سمواد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ سب یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ میں آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔آپ سب جانتے ہیں کہ بہار میں پہلی بار 24 نومبر 2005 کو این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی ہے اور ہم بہار کی ترقی میں لگاتار مصروف ہیں۔بہار کی حالت بہت خراب تھی۔ لوگ شام کے بعد گھر وںسے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماج میں تنازعہ ہو تا تھا ،ہندو مسلم جھگڑا ہوتا تھا ،پڑھائی کی کیا حالت بہت خراب تھی۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔پہلے علاج کا بھی مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں ان کا بہت برا حال تھا ۔بجلی بہت کم جگہوں پر تھی ۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ریاست میں محبت ،بھائی چارہ اور امن کا ماحول ہے۔پہلے کتنا ہندو مسلم تنازعہ ہوتا تھا، اس لئے سال 2006سے ہی، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جا چکی ہے۔اب کوئی تنازعہ نہیں ہو تا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2016 سے، 60 سال قدیم ہندو مندروں کی بھی گھیرا بندی کا کام شروع کیا گیا،جس سے چوری وغیرہ کے واقعات نہیں ہو تے ہیں۔ ہم لوگوں نے تعلیم کے شعبہ میں خصوصی توجہ دی گئی ۔ ہم لوکوں نے کنٹریکٹ ٹیچروں کی بحالی کی، بڑی تعدااد میں نئے اسکول کھولے اورسرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ چلا یا گیا۔ سال 2023 سے، بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2لاکھ 58ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ 2006 سے 3لاکھ 68ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بحال کیے گئے تھے، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 28ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد، حکومت نے فیصلہ کیا کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو بی پی ایس سی کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے ،انہیں معمولی سا امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں پانچ مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اب تک چار امتحانات ہو چکے ہیں، اور 2لاکھ 66ہزار کانٹریکٹ ٹیچر پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73ہزار باقی بچ گئے ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ سرکاری اساتذہ کی کل تعداد اب 5 لاکھ 24ہزار ہوگئی ۔ اس کے علاوہ بی پی ایس سی کے ذریعہ اور 45ہزار نئے عہدوں پر بحالی شروع کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے، صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ہر ماہ علاج کے Èتے تھے، یعنی یومیہ ایک یا دو مریض۔ 2006 سے، ہسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کامکمل انتظام کیا گیا ہے۔ اب ہرماہ اوسطاً 11 ہزار 600 سو مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ میں Èتے ہیں ۔ پہلے، بہار میں صرف 6 میڈیکل کالج تھے، جن کی تعداد اب 12 ہو گئی ہے۔ اس سال 6میڈیکل کالج اور بن جائیں گے اورباقی تمام 21 اضلاع میں نئے میڈیکل کالج کی تعمیر بھی جلد پوری کی جائے گی ۔ پٹنہ میڈیکل کالج اور ہسپتال کو 5 ہزار 400 بیڈاور دیگر پانچ قدیم میڈیکل کالجوں کوڈھائی ہزار بیڈ کا کیا جارہا ہے۔ساتھ ہی Èئی جی Èئی ایم ایس کو 3ہزار بیڈ کا بنا یا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں سڑکوں اور پل پلیوں کی تعمیر کرائی گئی ہے۔ ریاست کے دور دراز علاقوں سے 6گھنٹے میں پٹنہ پہنچنے کےے نشانہ کو سال 2016 میں پورا کر لیا گیا ہے۔اب ریاست میں بڑی تعداد میں سڑکوں پل پلیوں ، ریلوے اوور بریج، بائی پاس اور ایلیویٹیڈ روڈ کی تعمیر سے تقربیا 5گھنٹے میں دور دراز علاقوں سے پٹنہ پہنچنا ممکن ہوا ہے ۔ 2008 سے، ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر کام کیا جارہا ہے ، ، جس کے نتیجے میں زراعت کے شعبہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔سال 2008 سے 2012تک پہلا، 2012 سے 2017تک دوسر، 2017 سے 2023 تک تیسرے ایگریکلچر روڈ میپ پر کام ہوا ہے ۔غلہ کی پیداوار میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ پھل ،سبزی، دودھ، انڈے، گوشت اور مچھلی کی پیداوار میں ڈھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،جس کے سبب مچھلی کی پیداوار میں بہار خود منحصر ہو گیا ہے ۔ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال، چوتھے زرعی روڈ میپ (2024 سے 2029) کے تحت اسکیموں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2015 میں ’’سات نشچے ‘‘ کے تحت ’معاشی حل نو جوانوں کو بل‘ ،’ محفوظ روزگار خواتین کا اختیار‘، ہر گھرتک بجلی، ہر گھر میں نل کاجل، ہر گھر میں اجابت خانہ،ٹولوں کو پکی سڑکوں سے جوڑنا، اور’ موقع بڑھے ، Èگے پڑھیں‘پرکام کیا گیا ہے۔ سال2018 میں ہر گھر کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ شروع سے ہی انتہائی سستی نرخوں پر بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ تقریبا تمام گھریلو صارفین کو بجلی مفت مل رہی ہے ۔اب حکومت کی طرف سے تمام خواہش مند افراد کے گھروں میں سولر پینل لگاجائیں گے۔ یہ کام شروع ہو چکا ہے، ابھی 50 لاکھ گھروں پر سولر پینل لگانے کی منظوری دی گئی ہے، اور یہ کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ 2020 سے، ’’سات نشچے 2‘‘ کے تحت، ’’یوا شکتی بہار کی ترقی‘‘مستحکم خواتین بااختیار خواتین، ’’ہر کھیت کو آبپاشی کا پانی‘‘، (سولر اسٹریٹ لائٹس)، صاف شہر ترقی یافتہ شہر قابل رسائی راستہ اور سب کے لیے صحت کی سہولت (ٹیلی میڈیس اور بال ہردیے منصوبہ)،سبھی پر بہت کام ہوا ہے ۔’’سات نشچے2‘‘ کے تحت جو بھی کام بچے ہیں ،انہیں جلد مکمل کیاجائے گا۔ سات نشے õ2 کے تحت ہی نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار دینا طے کیا گیا۔ اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکری دی جا چکی ہے۔ 40 لاکھ لوگوں کو روزگار دیاجا چکا ہے۔ دونوں کو ملا کر 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری اورروزگاردیا گیا ہے۔ اگلے 5 برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کونوکری اور روزگار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے شروع سے تمام طبقوں کے لیے کام کیا ہے ، چاہے ہندوہوں ، مسلم ہوں ،اعلیٰ ذات ہوں ، پسماندہ ہوں ، انتہائی پسماندہ ہوں ،دلت ہو ، مہا دلت ہو ، تمام طبقوں کے لیے کام کیا گیا ہے ۔مسلمانوں کے لیے بھی ہم نے بہت کام کیا ہے مدرسوں کو سرکاری منظوری دی گئی ہے اور ان کے اساتذہ کو دیگر سرکاری اساتذہ کے مساوی تنخواہ دی جارہی ہے ۔ تمام معمر لوگوں ، معذوروں اور بیوہ خواتین کو ملنے والی پنشن کی رقم 400روپے سے بڑھا کر 1100روپے کر دی گئی ہے ۔ اس سے 1کروڑ 14لاکھ لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ 2023کی شماری میں لوگوں کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس میں 94لاکھ غریب خاندانوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں اعلیٰ ذات، پسماندہ ذات، انتہائی پسماندہ ذات، دلت، مہادلیت اور مسلمان شامل ہیں۔ ان تمام خاندانوں کو روزگار کے لیے 2 لاکھ روپے کی مدد دی جانی ہے۔ اب تک 83 لاکھ 20ہزار خاندانوں کو روزگار منصوبہ سے جوڑ کر رقم دینا شروع کیا گیا ہے باقی خاندانوں کو اگلے ماہ تک رقم دینا شروع کیا جائے گا۔ اگر ضرورت ہوئی تو، 2 لاکھ سے زیادہ رقم بھی فراہم کی جائے گی۔سال 2006میں پنچایتی راج اداروں میں اورسال 2007 میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزر ویشن دیا گیا۔ اب تک چار انتخابات ہو چکے ہیں۔سا 2013 سے پولیس میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اب بہار پولیس میں خواتین کی تعداد ملک میں سب سے زیا دہ ہے۔ 2016 سے خواتین کو تمام سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بہار میں سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد بہت کم تھی۔ 2006 میں عالمی بینک سے قرض لے کر ریاست میں سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی جس کا نام جیویکا رکھا گیا ۔اب سیلف ہیلپ گرو کی تعداد11لاکھ 5ہزار پہنچ گئی ہے، جن میں جیویکا دیدیوں کی تعداد 1کروڑ 69 لاکھ ہے۔سال 2024 سے شہری علاقوں میں بھی سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی ہے جن کی تعداد 77ہزار ہو گئی ہے ، جس میں تقریبا 10لاکھ 78 ہ زار جیویکا دیدیاں ہیں اس کی تشکیل مسلسل جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں جوکمی رہی گئی ہے اس کوپوار کر نے کے لیے دسمبر 2024 اور جنوری فروری 2025 میں پرگتی یاترا کے دوران ہم نے تمام اضلاع میں جاکر ترقیاتی کاموں کودیکھا اور جو کمی رہ گئی تھی اسے پورے کر نے کے لیے 430نئے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں ان منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اب تک 21 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، باقی تمام کاموں کو جلد پورا کرلیا جائے گا۔ بہارکی ترقی میں مرکزی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون مل رہا ہے۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں لیے سڑکوں، صنعت، صحت، سیاحت اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے بڑی رقم دینے کا اعلان کیا گیا۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میں مکھانہ بورڈ کے قیام، ایئر پورٹ کا قیام اور مغربی کوسی کینال کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔ 2018ٍََمیں ملک کی کچھ ریاستوں میںکھیلو انڈیایوتھ گیمزکا انعقاد ہوا تھا ،سال 2025میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کا انعقاد بہار میں کیا گیا جو فخر کی بات ہے۔ان سب کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو سلام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کئی مرتبہ بہار آئے اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھاافتتاح کیا گیا ہے ۔ان تمام منصوبوں پراب تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ آئند پانچ برسوں کے لیے’’سات نشچے 3‘‘ قائم کیا گیا ہے،جس سے ’’دوگنا روزگار دوگنی آمدنی‘‘ کے تحت ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ خواتین روزگار منصوبہ کے تحت ہر خاتون کو 10ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر چلے گے ا نہیں 2 لاکھ روپے تک کی مدد دی جائے گی۔ آئندہ پانچ برسوں میں 1نوجوانوں کو نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسکے لیے ’’یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘‘قائم کیا گیا ہے۔ ’’خوشحال صنعت، مضبوط بہار‘‘ کے تحت آئندہ 5برسوں میں میں صنعتوں کے قیام پرپوری توجہ دی جائے گی ۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل ایریا قائم کیا جارہا ہے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ زراعت میں پیش رفت’ زرات میں ترقی ، ریاست کی خوشحالی‘ کے تحت زراعت کی ترقی کے لیے پہلے سے ہی بہت کام کیا گیا ہے۔ اس کام میں مزید تیزی لانے کے لیے ایک نیا بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن قائم کیا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیری اور فش فارمنگ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ’اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل‘پروگرام کے تحت ہر بلاک میں Èدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جا رہے ہیں۔ ایک نئی ایجوکیشن سٹی تعمیر کیا جائے گی۔ Èسان صحت محفوظ زندگی پروگرام کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک اسپتالوں کو خصوصی طبی مراکز میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں معروف پرائیویٹ اسپتالوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے پالیسی لائی جائے گی۔ مضبوط بنیاد جدید توسیع: کے تحت انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا،۔ پانچ نئے ایکسپریس وے کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو 2 لین تک چوڑا کیا جائے گا۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولر پینل لگائے جائیں گے۔ بہار میں سیاحت اور ایکو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی زور دی جائے گی۔ پٹنہ میں اسپورٹس سٹی قائم کی جائے گی اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی۔ ’’سب کا سمان زندگی آسان‘‘ کے تحت جدید تکنیک اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست کے تمام لوگوں کی زندگی کو آسان بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ریاست مسلسل ترقی کر رہی ہے ، ان دنوں کام کو اور آگے بڑھا یا گیا ہے۔آئندہ 5 برسوں میں مزید کام ہو گا جس سے بہار بہت Èگے بڑھے گا مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون مل رہا ہے۔ بہار کی مزید ترقی ہو گی اور ملک کی ٹاپ ریاستوں میں شامل ہو جائے گا اور ملک کی ترقی میں اہم کردار اداکرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کیمور ضلع میں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ ہم گزشتہ دو دہائیوں سے بہار کی ترقی میں مسلسل مصروف ہیں۔ 2005 سے پہلے کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ پہلے کیمور ضلع کی حالت بہت خراب تھی۔ پٹنہ اور کیمور کے درمیان سڑکیں بھی خستہ حالت میں تھیں جس کی وجہ سے آمدورفت بہت دشوار تھی۔ پہلے پٹنہ سے کیمور پہنچنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ کیمور ضلع کے اندر اورقرب جوار کے اضلاع میں سفر کرنا بہت مشکل تھا۔ پورے ضلع میں بجلی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہہ تھی۔ ہم نے شروع سے ہی کیمور کی ترقی کے لیے بہت سے اہم کام کیے ہیں۔ پٹنہ سے کیمور تک اچھی سڑک بنائی گئی ہے۔ اس سے آمدورفت آسان ہو گئی ہے۔ یہاں آرا موہنیا فور لین سڑک بنائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس ضلع میں انجینئرنگ کالج اور پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ قائم کئے گئے ہیں۔ تمام سب ڈویژنوں میں خواتین آئی ٹی آئی اور آئی ٹی آئی قائم کیا گیا ہے۔ جی این ایم انسٹی ٹیوٹ، پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں کرپوری ہاسٹل اور 3 رہائشی اسکول تعمیر کیے گئے ہیں۔ بھبھوا صدر اسپتال تعمیر کیا گیا ہے۔ درگاوتی ریزروائر اسکیم کو نئے سرے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ عقیدت مندوں کی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماں منڈیشوری مندر کے احاطے میں کئی ترقیاتی کام کئے گئے ہیں۔ دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 کے مہینوں میں، میں نے پرگتی یاترا کے دوران تمام اضلاع کا دورہ کیا اور ترقیاتی کاموں کو دیکھا۔ یہاں بھی ہم نے آکر ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور لوگوں سے بات کی اور مسائل سے آگاہ ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے 9 منصوں کی منظوری دی گئی جن پر کام چل رہا ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان ممصوںوں میں کیمور میں موہنیا، ادھورا، چین پور، چاند، بھگوان پور، رام پور، کدرااور نواوں سمیت کل 8 بلاکوں میں نئے بلاک-کم زونل دفتر کی عمارت کا تعمیراتی کام، کیمور میں اسپورٹس کمپلیکس کا تعمیراتی کام، ادھورا میں ڈگری کالج کی تعمیر، بگہی کوراڑی لنک نہراسکیم کی بحالی کا کام، سون ،کوہیرا لنک آبپاشی اسکیم ،کیمور میں آڈیٹوریم کا تعمیراتی کام، جمنیا سے ککریت گنگا واٹر اپلفٹ اریگیشن اسکیم، ادھورا پہاڑ واقع سیاحتی مقام کرکٹ گڑھ، تلہڑس کنڈ اور ونشیکھوہ میں سیاحتی سہولتوں کا ڈیولپمنٹ، موہنیا-ڈڈوابائی پاس روڈ کو چوڑا اور مضبوط کرنے کا کام وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات نشچے3 کے تحت کیمور ضلع میں اگلے 5 برسوں 2025 سے 2030 کے درمیان بہت سے کام کیے جائیں گے۔ ضلع کی 2 لاکھ 63 ہزار خواتین کو روزگار کے لیے 10 ہزار روپے کی رقم دی گئی ہے۔ انہیں اپنا روزگار بڑھانے کے لیے 2 لاکھ روپے تک کی اضافی امداد بھی دی جائے گی۔ ضلع کیمور میں انڈسٹریل ایریا قائم کرکے نئی صنعتیں لگائی جائیں گی۔ ڈیری کو فروغ دینے کے لیے 850 گاؤں میں دودھ کی پیداوار کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور تمام 147 پنچایتوں میں سودھا دودھ کی فروخت کے مراکز کھولے جائیں گے۔ تمام 11 بلاکوں میں ماڈل اسکول اور ڈگری کالج قائم کیے جائیں گے۔ تمام 11 کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو خصوصی ہسپتال اور کیمور صدر ہسپتال کو سپر اسپیشلٹی ہسپتال کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ یہاں کھیلوں کے لیے ایک سنٹر آف ایکسیلنس قائم کیا جائے گا۔ سب سمان زندگی آسان نشچے کے تحت مشکلات کو دور کیا جائے گا اور لوگوں کے لیے سرکاری سہولیات کا حصول آسان بنایا جائے گا۔ یہ کام ضلع کی مجموعی ترقی کا باعث بنیں گے۔ ہمیں مرکزی حکومت سے بھی بھرپور تعاون مل رہا ہے۔ اب بہار بہت ترقی کرے گا اور ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں میں شامل ہو جائے گا۔ مقامی عوامی نمائندوں اور لیڈروں نے وزیر اعلیٰ کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے انہیں مومینٹس پیش کیا۔