مولانا سالم چترویدی کی گرفتاری قانون کی سر عام خلاف ورزی ہے:اخترالایمان
Awaz E Bihar••10 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ (اے بی این)معروف خطیب، مذہبی اور سیاسی رہنما مولانا سالم چترویدی کی جس طرح اور جس انداز میں گرفتار کیا گیاہے اب اس پر ہر مکتب فکر کے لوگوںکی جانب سے رد عمل شروع ہوگیاہے۔مولانا سالم چترویدی کو تقریباً دوسال قبل ایک جلسہ میں یوپی کے وزیر اعلیٰ آدتیہ یوگی کو مبینہ گالی کااستعمال کرنےوالے ایک ویڈیو کلپ جاری ہونے کے بعد اترپردیش کے کئی اضلاع میں ان کے خلاف معاملے درج کرائے گئے تھے۔اس کے بعد یوپی ایس ٹی ایف نے انہیں پورنیہ ضلع کے امورتھانہ میں واقع ڈلمل پور چوک سے گرفتار کیا تھا۔گرفتاری کے بعد انہیں گورکھ پور لے جایاگیا اور بعد میں انہیں بہرائچ کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے انہیں ۱۴؍دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ فی الحال وہ جیل میں ہیں۔ایس ٹی ایف نے انہیں فلمی اسٹائل میں سول ڈریس میں گرفتار کیا تھا۔مولانا سالم چترویدی کی اس گرفتاری سے سیمانچل سمیت ملک کے دیگر علاقوںمیں بھی سخت ناراضگی ہے ۔اس سلسلے میں ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اورایم ایل اے اخترالایمان نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک معروف عالم دین اور مذہبی رہنما کی اس انداز میں گرفتاری قانون کی سرعام خلاف ورزی ہے ۔دوسال قبل کےجس ویڈیو کو بنیاد بناکراس مذہبی رہنما کو گرفتار کیاگیاہے ان کی گرفتاری سے قبل یوپی ایس ٹی ایف کو وہاں کے ایس پی اور مقامی پولیس انتظامیہ کو اس کی اطلاع دینا لازمی ہے اور مقامی عدالت کے سامنے انہیں پیش کیاجائے ۔ مولانا سالم چترویدی نے اگر کوئی ایسے الفاظ کا استعمال کیاہے تو اس کے لیے عدالت ہے اور پولیس کو اس معاملے میں سزا دینے کاکوئی حق نہیں ہے۔اخترالایمان نے کہا کہ بہرائچ عدالت میں پیش ہونے سے قبل جو ان کی حالت سے یہ واضح طورپر دکھائی دیتاہے کہ وہ ٹھیک سے چل نہیں پارہے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی ہے اور انہیں ٹارچر کیاہے۔ ہم کسی طرح کی مذہبی منافرت کی حمایت نہیں کرتے،لیکن مولانا سالم چترویدی کو جس طرح جسمانی اذیت دی گئی ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ بہار حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملےمیں جلد مداخلت کرے ،کیونکہ یہ ریاستی حکومت کے مان سمان کا بھی معاملہ ہے ۔ اس سلسلے میں ہم نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ سمراٹ چودھری کے علاوہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو بھی عرضداشت سونپا ہے ۔