پٹنہ (اے بی این) بہار اسمبلی کی کارروائی جمعرات کو طلباء پر پولیس لاٹھی چارج اور کچھ اراکینِ اسمبلی پر مبینہ حملے کے معاملے کو لے کر حکمراں جماعت ر اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان شدید ہنگامے اور دھکا مکی کے بعد ملتوی کر دی گئی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی آج اپوزیشن کے ارکان پوسٹر لہراتے ہوئے دارالحکومت پٹنہ میں بدھ کے روز طلباء کے احتجاج کے دوران ہوئے پولیس لاٹھی چارج کا معاملہ زور دار طریقے سے اٹھانے لگے ۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ایوان میں شور شرابا کیا۔اسی دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے شیام بابو یادو کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ڈاک بنگلہ چوراہے پر مظاہرہ کرنے والے طلباء نہیں بلکہ غنڈے تھے ۔ انہوں نے اونچی آواز میں کہا کہ ان پر اور ان کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرے میں شامل لوگ مختلف سیاسی جماعتوں کے غنڈے تھے ، طلباء نہیں تھے ۔ان کی بات کی حمایت کرتے ہوئے ایم ایل اے پرمود کمار بھی اس معاملے پر بولنے لگے ۔ اس کے بعد اقتدار کے کئی دیگر ارکان بھی اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر بولنے لگے ۔اس کے بعد حکمراں اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان نوک جھونک شروع ہو گئی اور ایوان میں شدید ہنگامہ ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ حکمراں اور اپوزیشن، دونوں اطراف کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزامات لگانے لگے ۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی آج اپوزیشن کے ارکان پوسٹر لہراتے ہوئے دارالحکومت پٹنہ میں بدھ کے روز طلباء کے احتجاج کے دوران ہوئے پولیس لاٹھی چارج کا معاملہ زور دار طریقے سے اٹھانے لگے۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ایوان میں شور شرابا کیا۔ اسی دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے شیام بابو یادو کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ڈاک بنگلہ چوراہے پر مظاہرہ کرنے والے طلباء نہیں بلکہ غنڈے تھے۔ انہوں نے اونچی آواز میں کہا کہ ان پر اور ان کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرے میں شامل لوگ مختلف سیاسی جماعتوں کے غنڈے تھے، طلباء نہیں تھے۔ ان کی بات کی حمایت کرتے ہوئے ایم ایل اے پرمود کمار بھی اس معاملے پر بولنے لگے۔ اس کے بعد اقتدار کے کئی دیگر ارکان بھی اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر بولنے لگے۔اس کے بعد حکمراں اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان نوک جھونک شروع ہو گئی اور ایوان میں شدید ہنگامہ ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ حکمراں اور اپوزیشن، دونوں اطراف کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزامات لگانے لگے۔