حکومت جرم، بدعنوانی کے ساتھ فرقہ پرستی سے بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: وجے چودھری
Awaz E Bihar••15 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 2 مئی (اے بی این) نائب وزیراعلیٰ اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے سینئر لیڈر وجے چودھری نے ہفتہ کے روز کہا کہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت ریاست میں جرم اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستی سے بھی کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مسٹر چودھری نے کہا کہ بہار میں بھلے ہی وزیراعلیٰ بدل گئے ہوں، لیکن حکومت اگلے پانچ سال نتیش کمار کی پالیسیوں اور سوچ کے مطابق ہی چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بی جے پی کے نام پر ڈرا کر اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخاب سے پہلے اتحاد نے کہا تھا کہ 'پچیس سے تیس، پھر سے نتیش اور اگلے پانچ سال ریاست اسی طرز پر چلے گی جیسا نتیش کمار چاہتے ہیں۔ نائب وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ بہار میں کسی بھی اقلیت کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے نئے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی اسمبلی میں کہا تھا کہ ان کی حکومت 'کرائم، کرپشن اور کمیونلزم' (جرم، بدعنوانی اور فرقہ پرستی) سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہار حکومت فرقہ پرستی پر 'زیرو ٹولرنس' کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ مسٹر چودھری نے کہا کہ 2005 سے پہلے کی حکومتیں اقلیتوں کو یہ بتاتی تھیں کہ ان کی حفاظت کے لیے اس کا اقتدار میں ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی ذمہ داری صرف شہریوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری آئے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کی اسکیموں سے اقلیتوں کو بھی دوسرے لوگوں کے برابر ہی فائدہ ملا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ اسکولوں میں بچیوں کو یونیفارم دینے میں کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا، اسی طرح 'اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ' جیسی اسکیموں نے بھی کمزور طبقے کے طلبہ کی مدد کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نتیش دورِ حکومت میں مدرسوں کی حالت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن بلاوجہ کے مسائل کو ہوا دے کر اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات آٹھ سال پہلے شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ "کوئی بتائے کہ اب تک کس مسلمان کی شہریت ختم کی گئی ہے؟" انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح 'وقف ترمیمی قانون' کے وقت لوگوں کو ورغلایا گیا کہ حکومت وقف بورڈ کی جائیدادیں ہڑپنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس کا استعمال اقلیتوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹنے کے لیے ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہار میں ایسی ایک بھی شکایت الیکشن کمیشن کے سامنے نہیں آئی۔ مسٹر چودھری نے کہا کہ بہار کی اقلیتیں اب اپوزیشن کے عزائم کو سمجھ چکی ہیں اور ان کے جھانسے میں نہیں آنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2005 سے 2025 کے درمیان بہار میں اقلیتی سماج کی معاشی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پٹنہ کے حج بھون میں مسلم بچوں کی تعلیم اور کوچنگ کا انتظام کیا گیا ہے اور وہاں سے کوچنگ حاصل کرنے کے بعد ایک لڑکی انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے لیے منتخب ہو چکی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اس بات میں مہارت حاصل ہے کہ وہ اصلی مددگار کو گناہگار بنا دیتے ہیں اور خود کے گناہوں کو چھپا کر ہمدرد بننے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔ انہوں نے اقلیتی سماج کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مفادات کے تئیں بیدار ہے اور ان کی بہتری کے لیے کام پہلے کی طرح جاری رہے گا۔